3 جنوری، 2019، 9:26 PM

مقتول سمیع الحق کے ڈرائیور پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران جھوٹ بولتے رہے

مقتول سمیع الحق کے ڈرائیور پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران جھوٹ بولتے رہے

پاکستان جمعیت علمائے اسلام (س) کے مقتول سابق سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تحقیقات میں پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران سمیع الحق کے ڈرائیور احمد شاہ مسلسل جھوٹ بولتے رہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے جنگ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان جمعیت علمائے اسلام (س) کے مقتول سابق سربراہ مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تحقیقات میں پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران سمیع الحق کے ڈرائیور احمد شاہ مسلسل جھوٹ بولتے رہے۔۔ اطلاعات کے مطابق لاہورمیں مولانا سمیع الحق قتل کیس کی تحقیقات کےلیے 10افراد کے پولی گرافی اور ڈی این اے ٹیسٹ کیے گئے، تین افراد کے ڈی این اے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے میچ کرگئے، لیکن قتل سے تعلق نہ نکلاجبکہ مقتول سمیع الحق کا ڈرائیور پولی گرافی ٹیسٹ کے دوران مبینہ طورپر جھوٹ بولتا رہا۔ ذرائع فرانزک ایجنسی کے مطابق مولانا سمیع الحق کا ڈرائیور احمد شاہ ٹیسٹ کے دوران پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ قتل کرنے والوں کو جانتا ہے؟ اور کیا وہ قتل کی منصوبہ بندی میں شامل رہا؟ٹیسٹ کے نتائج میں3 افراد کے ڈی این اے کمرے سے ملنے والے شواہد سے میچ کر گئے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد نے پولی گرافی ٹیسٹ میں سچ بولا اور ان کا قتل سے تعلق نہیں نکلا۔ مولانا سمیع الحق کو گذشتہ سال نومبر میں راولپنڈی میں واقع اُن کی رہائش گاہ پر چاقوؤں کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

News ID 1887003

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha